تحریر: حجۃ الاسلام آغا سید حسن موسوی صفوی
حوزہ نیوز ایجنسی I دنیا جس عہد میں داخل ہو چکی ہے، وہاں استعمار اب نقشوں پر سرحدیں بدلنے کا نام نہیں رہا۔ آج طاقت وہ ہے جو سوچ پر قابض ہو، معیشت کو زنجیر بنا دے اور اخلاق کو غیر متعلق قرار دے کر سیاست کو محض مفاد کا کھیل بنا دے۔ جدید عالمی نظام میں امریکہ اسی نوع کے استعمار کی نمائندگی کرتا ہے—ایک ایسا نظام جو ریاستوں کو فتح نہیں کرتا بلکہ انہیں قائل، مجبور اور محتاج بنا کر تابع کرتا ہے۔
ایسے ماحول میں اسلامی جمہوریۂ ایران کا وجود ایک سوال بن جاتا ہے۔ سوال اس لیے نہیں کہ وہ عسکری طور پر مضبوط ہے یا علاقائی سیاست میں فعال ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ انکار کرتا ہے—فکری انکار، اخلاقی انکار، اور روحانی انکار۔ یہ انکار کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری فکری روایت کا تسلسل ہے جس کی جڑیں حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے سیاسی و اخلاقی فلسفے میں پیوست ہیں۔
نہج البلاغہ میں مولیٰ علیؑ اقتدار کو جس انداز میں بیان کرتے ہیں، وہ جدید سیاست کے لیے ایک اجنبی تصور ہے۔ اقتدار ان کے نزدیک غلبہ نہیں، حق نہیں، حتیٰ کہ کامیابی بھی نہیں—بلکہ ایک امانت ہے۔ یہی تصور جب تاریخ کے تسلسل میں شیعی فکر سے گزرتا ہوا بیسویں صدی میں داخل ہوتا ہے تو حضرت امام روح اللہ خمینیؒ کی صورت میں ایک انقلابی زبان اختیار کر لیتا ہے۔
امام خمینیؒ کا انقلاب محض ایک سیاسی نظام کی تبدیلی نہیں تھا؛ وہ دراصل اس خیال کے خلاف بغاوت تھی کہ مذہب کو ذاتی عبادت تک محدود کر دیا جائے اور سیاست کو طاقتوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ امام خمینیؒ نے سیاست کو دوبارہ اخلاق سے جوڑا، اور اخلاق کو الٰہی ذمہ داری قرار دیا۔ یہی وہ نکتہ تھا جو مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے فیصلے واشنگٹن یا عالمی مالیاتی اداروں سے نہیں بلکہ اپنے دینی و اخلاقی ضمیر سے کرے—یہ جدید استعمار کے پورے نظام کے لیے خطرہ تھی۔
امریکہ نے ایران کو دبانے کے لیے وہ تمام طریقے آزمائے جو جدید استعمار کے ہتھیار سمجھے جاتے ہیں: اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی، میڈیا کے ذریعے شیطنت، اور داخلی انتشار کی کوششیں۔ مگر ہر مرحلے پر ایران نے جس چیز کے ذریعے خود کو سنبھالا، وہ نہ عسکری طاقت تھی اور نہ معاشی خوشحالی—بلکہ روحانی استقامت تھی۔
یہی استقامت بعد ازاں حضرت امام سید علی خامنہای (دام ظلہ) کی قیادت میں ایک باقاعدہ فلسفے میں ڈھل گئی۔ امام خامنہای دام ظلہ نے مزاحمت کو جذباتی نعرے سے نکال کر فکری نظم دیا۔ ان کے نزدیک مزاحمت نہ تصادم کا نام ہے، نہ تنہائی کا؛ بلکہ یہ اپنی شناخت، اپنے اصول اور اپنے اخلاق پر قائم رہنے کا نام ہے۔ ان کی فکر میں صبر کمزوری نہیں بلکہ تاریخ کو موڑ دینے والی قوت ہے—وہی صبر جسے مولیٰ علیؑ ایمان کا سر قرار دیتے ہیں۔
یہاں ایران بین الاقوامی تعلقات کے مروجہ نظریات کے لیے ایک فکری چیلنج بن جاتا ہے۔ ریئلزم کہتا ہے کہ ریاستیں صرف مفاد دیکھتی ہیں؛ نیو ریئلزم طاقت کے توازن کو سب کچھ مانتا ہے؛ اور لبرل ازم اخلاق کو اداروں تک محدود کر دیتا ہے۔ مگر ایران کا رویہ ان سب سے مختلف ہے۔ وہ نقصان اٹھا کر بھی اصول نہیں چھوڑتا، دباؤ میں آ کر بھی بیانیہ تبدیل نہیں کرتا، اور تنہائی میں بھی حق کے راستے کو ترک نہیں کرتا۔ یہ طرزِ عمل کسی مادی حساب کتاب سے سمجھ میں نہیں آتا، یہ صرف ایک روحانی فلسفے کے ذریعے قابلِ فہم ہے۔
اسی فلسفے کا ایک عملی مظہر Resistance Economy ہے۔ یہ محض اقتصادی پالیسی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اعلان ہے کہ معاشی آسانی کے بدلے خودمختاری قربان نہیں کی جائے گی۔ نہج البلاغہ میں حضرت علیؑ کا یہ قول محض نصیحت نہیں بلکہ ایک تہذیبی اصول بن جاتا ہے کہ جو قناعت اختیار کرے، وہ محتاج نہیں رہتا۔ ایران نے اسی قناعت کو جدید ریاستی حکمتِ عملی میں بدل دیا۔
یوں ایران کی کہانی کسی ایک قوم کی کہانی نہیں رہتی۔ یہ دراصل ایک تہذیبی سوال ہے جو جدید دنیا سے پوچھا جا رہا ہے:
کیا سیاست اخلاق کے بغیر ممکن ہے؟
کیا طاقت ہی حق کی واحد دلیل ہے؟
اور کیا کوئی قوم روحانیت کے سہارے بھی عالمی دباؤ کا مقابلہ کر سکتی ہے؟
اسلامی جمہوریۂ ایران ان سوالات کا عملی جواب ہے۔ حضرت امام روح اللہ خمینیؒ نے اس جواب کی بنیاد رکھی، حضرت امام سید علی خامنہای (دام ظلہ) نے اسے فکری استحکام دیا، اور اس پوری سوچ کا سرچشمہ مولیٰ علیؑ کی وہ فکر ہے جو نہج البلاغہ میں آج بھی جدید دنیا کو آئینہ دکھا رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران محض ایک ریاست نہیں، بلکہ ایک زندہ فلسفہ ہے۔ اور شاید اسی لیے وہ جدید استعمار کے لیے سب سے زیادہ ناگوار حقیقت بھی ہے۔









آپ کا تبصرہ